کیا اللہ کو جسمانی آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے؟

کیا اللہ کو جسمانی آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے؟

July 5, 2026UR

بعض لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو جسمانی آنکھوں سے دیکھا جائے گا، یا یہ کہ رسول اللہ حضرت محمد ﷺ نے معراج کے موقع پر اللہ تعالیٰ کو اپنی ظاہری آنکھوں سے دیکھا تھا۔

لیکن قرآنِ مجید اور اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات اس عقیدے کو واضح طور پر رد کرتی ہیں۔

اللہ کوئی جسم نہیں۔

اللہ کسی سمت میں محدود نہیں۔

آنکھیں اللہ کا احاطہ نہیں کرسکتیں۔

اللہ کو انسانی شکل و صورت میں تصور نہیں کیا جاسکتا۔

اللہ کسی جگہ، روشنی، فاصلے، فضا یا سمت کا پابند نہیں۔

اللہ کو ظاہری آنکھوں کے ذریعے نہیں، بلکہ ایمان، یقین اور دل کی معرفت کے ذریعے پہچانا جاتا ہے۔

سب سے پہلے قرآنِ مجید کی طرف دیکھیے:

قرآن 6:103

لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ ۖ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ

ترجمہ:

”نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں، جبکہ وہ تمام نگاہوں کا ادراک رکھتا ہے، اور وہ نہایت باریک بین اور ہر چیز سے باخبر ہے۔“

قرآن 7:143

قَالَ رَبِّ أَرِنِي أَنْظُرْ إِلَيْكَ ۚ قَالَ لَنْ تَرَانِي

ترجمہ:

”موسیٰ نے عرض کیا: اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تجھے دیکھوں۔ اللہ نے فرمایا: تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے۔“

یہ دونوں آیات بنیادی حقیقت ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں:

کوئی جسمانی آنکھ اللہ تعالیٰ کا احاطہ نہیں کرسکتی۔

مخلوق کی کوئی نگاہ خالق کا ادراک نہیں کرسکتی۔

اللہ تمام آنکھوں کو دیکھتا اور جانتا ہے، لیکن آنکھیں اللہ کو نہیں دیکھ سکتیں۔

اب ملاحظہ کیجیے کہ اہلِ بیت علیہم السلام کے ائمہ نے قرآن کے اسی عقیدۂ توحید کی کس طرح وضاحت فرمائی ہے۔

شیعہ روایت 1

عربی:

حدثنا محمد بن موسى بن المتوكل رحمه الله، قال: حدثنا علي بن إبراهيم بن هاشم، عن أبيه، عن النوفلي، عن السكوني، عن أبي عبد الله، عن آبائه عليهم السلام قال: مر النبي صلى الله عليه وآله وسلم على رجل وهو رافع بصره إلى السماء يدعو، فقال له رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: غض بصرك فإنك لن تراه. وقال: ومر النبي صلى الله عليه وآله وسلم على رجل رافع يديه إلى السماء وهو يدعو، فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: اقصر من يديك فإنك لن تناله.

اردو ترجمہ:

امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے آباء و اجداد علیہم السلام سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو دعا کرتے ہوئے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے تھا۔

رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا:

”اپنی نگاہ نیچی کرلو، کیونکہ تم اسے ہرگز نہیں دیکھ سکتے۔“

پھر آپ ﷺ ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو دعا کرتے ہوئے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے تھا۔

رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا:

”اپنے ہاتھ نیچے کرلو، کیونکہ تم جسمانی طور پر اس تک ہرگز نہیں پہنچ سکتے۔“

حوالہ:

شیخ صدوق، کتاب التوحید، کتاب 2، باب 8، حدیث 1۔

مختصر وضاحت:

رسول اللہ ﷺ نے خود یہ تعلیم دی کہ آسمان کی طرف جسمانی نگاہ اٹھانے سے اللہ کو نہیں دیکھا جاسکتا اور نہ اللہ کسی جسمانی سمت کے ذریعے قابلِ رسائی ہے۔

شیعہ روایت 2

عربی:

أبي رحمه الله قال: حدثنا علي بن إبراهيم بن هاشم، عن أبيه، عن علي بن معبد، عن عبد الله بن سنان، عن أبيه، قال: حضرت أبا جعفر عليه السلام فدخل عليه رجل من الخوارج فقال له: يا أبا جعفر أي شيء تعبد؟ قال: الله. قال: رأيته؟ قال: لم تره العيون بمشاهدة العيان، ولكن رأته القلوب بحقائق الإيمان، لا يعرف بالقياس، ولا يدرك بالحواس، ولا يشبه بالناس، موصوف بالآيات، معروف بالعلامات، لا يجور في حكمه، ذلك الله لا إله إلا هو. قال: فخرج الرجل وهو يقول: الله أعلم حيث يجعل رسالته.

اردو ترجمہ:

ایک خوارجی شخص امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:

”اے ابو جعفر! آپ کس کی عبادت کرتے ہیں؟“

امام علیہ السلام نے فرمایا:

”اللہ کی۔“

اس شخص نے پوچھا:

”کیا آپ نے اسے دیکھا ہے؟“

امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:

”آنکھوں نے اسے ظاہری اور جسمانی مشاہدے کے ذریعے نہیں دیکھا، بلکہ دلوں نے اسے ایمان کی حقیقتوں کے ذریعے دیکھا ہے۔

اسے قیاس کے ذریعے نہیں پہچانا جاسکتا۔

حواس اس کا ادراک نہیں کرسکتے۔

اسے انسانوں کے مشابہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔

اسے اس کی آیات کے ذریعے بیان کیا جاتا ہے اور اس کی نشانیوں کے ذریعے پہچانا جاتا ہے۔

وہ اپنے فیصلے میں کسی پر ظلم نہیں کرتا۔

وہی اللہ ہے، جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔“

یہ سن کر وہ شخص باہر نکل گیا اور کہنے لگا:

”اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت کو کہاں قرار دے۔“

حوالہ:

شیخ صدوق، کتاب التوحید، کتاب 2، باب 8، حدیث 5؛

الکافی، کتاب التوحید، باب ابطال الرؤیۃ، حدیث 5۔

مختصر وضاحت:

یہ خالص توحید ہے۔ اللہ تک حواس، آنکھوں، خیالات، تصورات یا مخلوق سے مشابہت کے ذریعے نہیں پہنچا جاسکتا۔ اللہ اپنی نشانیوں، ایمان اور یقین کے ذریعے پہچانا جاتا ہے۔

شیعہ روایت 3

عربی:

حدثنا علي بن أحمد بن محمد بن عمران الدقاق رحمه الله، قال: حدثنا محمد بن أبي عبد الله الكوفي، عن علي بن أبي القاسم، عن يعقوب بن إسحاق قال: كتبت إلى أبي محمد عليه السلام أسأله كيف يعبد العبد ربه وهو لا يراه؟ فوقع عليه السلام: يا أبا يوسف جل سيدي ومولاي والمنعم علي وعلى آبائي أن يرى. قال: وسألته هل رأى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ربه؟ فوقع عليه السلام: إن الله تبارك وتعالى أرى رسوله بقلبه من نور عظمته ما أحب.

اردو ترجمہ:

یعقوب بن اسحاق بیان کرتے ہیں:

میں نے امام ابو محمد، یعنی امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں خط لکھا اور پوچھا:

”ایک بندہ اپنے رب کی عبادت کس طرح کرتا ہے، جبکہ وہ اسے دیکھتا نہیں؟“

امام علیہ السلام نے تحریری جواب دیا:

”اے ابو یوسف! میرا آقا، میرا مولا اور مجھ پر اور میرے آباء پر نعمتیں عطا کرنے والا اس بات سے بہت بلند و برتر ہے کہ اسے ظاہری آنکھوں سے دیکھا جاسکے۔“

میں نے آپ سے یہ بھی پوچھا:

”کیا رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا تھا؟“

امام علیہ السلام نے جواب میں تحریر فرمایا:

”اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول کے دل کو اپنی عظمت کے نور میں سے جتنا چاہا، دکھایا۔“

حوالہ:

شیخ صدوق، کتاب التوحید، کتاب 2، باب 8، حدیث 2؛

الکافی، باب ابطال الرؤیۃ، حدیث 1۔

مختصر وضاحت:

امام حسن عسکری علیہ السلام نے ایک ہی روایت میں دونوں سوالوں کا جواب دے دیا:

اللہ ظاہری آنکھوں سے دیکھے جانے سے بہت بلند ہے، اور رسول اللہ ﷺ نے اللہ کی عظمت کے نور کا مشاہدہ اپنے دل سے کیا تھا، جسمانی آنکھوں سے نہیں۔

شیعہ روایت 4

عربی:

حدثنا الحسين بن أحمد بن إدريس رحمه الله، عن أبيه، عن محمد بن عبد الجبار، عن صفوان بن يحيى، عن عاصم بن حميد، قال: ذاكرت أبا عبد الله عليه السلام فيما يروون من الرؤية، فقال: الشمس جزء من سبعين جزءا من نور الكرسي، والكرسي جزء من سبعين جزءا من نور العرش، والعرش جزء من سبعين جزءا من نور الحجاب، والحجاب جزء من سبعين جزءا من نور الستر، فإن كانوا صادقين فليملؤوا أعينهم من الشمس ليس دونها سحاب.

اردو ترجمہ:

عاصم بن حمید کہتے ہیں:

میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے ان روایات کے متعلق گفتگو کی جن میں اللہ کو دیکھنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔

امام علیہ السلام نے فرمایا:

”سورج، کرسی کے نور کے ستر حصوں میں سے صرف ایک حصہ ہے۔

کرسی، عرش کے نور کے ستر حصوں میں سے صرف ایک حصہ ہے۔

عرش، حجاب کے نور کے ستر حصوں میں سے صرف ایک حصہ ہے۔

اور حجاب، پردے کے نور کے ستر حصوں میں سے صرف ایک حصہ ہے۔

پس اگر وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں تو ایسے وقت اپنی آنکھوں کو سورج کی روشنی سے بھرلیں جب سورج کے سامنے کوئی بادل نہ ہو۔“

حوالہ:

شیخ صدوق، کتاب التوحید، کتاب 2، باب 8، حدیث 3؛

الکافی، باب ابطال الرؤیۃ، حدیث 7۔

مختصر وضاحت:

جب انسان کی آنکھیں مخلوق سورج کی روشنی بھی برداشت نہیں کرسکتیں تو وہ اللہ کو جسمانی آنکھوں سے دیکھنے کا دعویٰ کیسے کرسکتے ہیں؟

شیعہ روایت 5

عربی:

أحمد بن إدريس عن أحمد بن محمد بن عيسى عن علي بن سيف عن محمد بن عبيد قال: كتبت إلى أبي الحسن الرضا عليه السلام أسأله عن الرؤية وما ترويه العامة والخاصة، وسألته أن يشرح لي ذلك، فكتب بخطه: اتفق الجميع لا تمانع بينهم أن المعرفة من جهة الرؤية ضرورة، فإذا جاز أن يرى الله بالعين وقعت المعرفة ضرورة، ثم لم تخل تلك المعرفة من أن تكون إيمانا أو ليست بإيمان، فإن كانت تلك المعرفة من جهة الرؤية إيمانا فالمعرفة التي في دار الدنيا من جهة الاكتساب ليست بإيمان لأنها ضده، فلا يكون في الدنيا مؤمن لأنهم لم يروا الله عز ذكره، وإن لم تكن تلك المعرفة التي من جهة الرؤية إيمانا لم تخل هذه المعرفة التي من جهة الاكتساب أن تزول ولا تزول في المعاد، فهذا دليل على أن الله عز وجل لا يرى بالعين إذ العين تؤدي إلى ما وصفناه.

اردو ترجمہ:

محمد بن عبید بیان کرتے ہیں:

میں نے امام علی رضا علیہ السلام کو خط لکھ کر اللہ کو دیکھنے کے مسئلے کے متعلق پوچھا اور ان روایات کے بارے میں سوال کیا جو عام مسلمانوں اور شیعوں میں بیان کی جاتی ہیں۔ میں نے امام سے درخواست کی کہ اس مسئلے کو میرے لیے واضح فرمائیں۔

امام علیہ السلام نے اپنے دستِ مبارک سے تحریر فرمایا:

”تمام لوگ اس بات پر متفق ہیں اور اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ کسی چیز کو براہِ راست دیکھ لینے سے حاصل ہونے والی معرفت ایک اضطراری اور یقینی معرفت ہوتی ہے۔

پس اگر اللہ کو آنکھ سے دیکھنا ممکن ہو تو اسے دیکھتے ہی اس کی معرفت لازمی اور اضطراری طور پر حاصل ہوجائے گی۔

پھر یہ معرفت دو حالتوں سے خالی نہیں ہوگی: یا یہ ایمان ہوگی یا ایمان نہیں ہوگی۔

اگر دیکھنے سے حاصل ہونے والی معرفت ہی ایمان ہو، تو دنیا میں غور و فکر، دلیل اور اختیار کے ذریعے حاصل ہونے والی معرفت ایمان نہیں ہوگی، کیونکہ وہ براہِ راست دیکھنے والی معرفت سے مختلف ہے۔

اس صورت میں دنیا میں کوئی شخص مؤمن نہیں ہوگا، کیونکہ دنیا میں کسی نے اللہ عزوجل کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا۔

اور اگر دیکھنے سے حاصل ہونے والی معرفت ایمان نہ ہو، تو پھر دنیا میں اختیار اور غور و فکر سے حاصل ہونے والی معرفت آخرت میں یا تو ختم ہوجائے گی یا ختم نہیں ہوگی۔

پس یہ تمام باتیں اس امر کی دلیل ہیں کہ اللہ عزوجل کو جسمانی آنکھ سے نہیں دیکھا جاسکتا، کیونکہ آنکھ سے دیکھنے کا نظریہ ان ناممکن نتائج تک پہنچاتا ہے جنہیں ہم نے بیان کیا ہے۔“

حوالہ:

الکافی، کتاب التوحید، باب ابطال الرؤیۃ، حدیث 3؛

نیز کتاب التوحید، باب 8۔

مختصر وضاحت:

یہ امام علی رضا علیہ السلام کی طرف سے ایک نہایت طاقتور عقلی دلیل ہے۔

اگر جسمانی طور پر دیکھنا ہی حقیقی ایمان ہوتا تو دنیا کے مؤمن حقیقی مؤمن نہ ہوتے، کیونکہ انہوں نے اللہ کو جسمانی آنکھوں سے نہیں دیکھا۔

جبکہ قرآن مجید ان لوگوں کی تعریف کرتا ہے جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں۔

شیعہ روایت 6

عربی:

أحمد بن إدريس عن أحمد بن إسحاق قال: كتبت إلى أبي الحسن الثالث عليه السلام أسأله عن الرؤية وما اختلف فيه الناس، فكتب: لا تجوز الرؤية ما لم يكن بين الرائي والمرئي هواء لم ينفذه البصر، فإذا انقطع الهواء عن الرائي والمرئي لم تصح الرؤية، وكان في ذلك الاشتباه، لأن الرائي متى ساوى المرئي في السبب الموجب بينهما في الرؤية وجب الاشتباه وكان ذلك التشبيه، لأن الأسباب لا بد من اتصالها بالمسببات.

اردو ترجمہ:

احمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں:

میں نے امام ابو الحسن الثالث، یعنی امام علی نقی الہادی علیہ السلام کو خط لکھا اور اللہ کو دیکھنے اور اس سلسلے میں لوگوں کے اختلاف کے متعلق سوال کیا۔

امام علیہ السلام نے جواب میں تحریر فرمایا:

”ظاہری رؤیت اس وقت تک ممکن نہیں ہوتی جب تک دیکھنے والے اور دیکھی جانے والی چیز کے درمیان ایسی فضا موجود نہ ہو جس سے نگاہ گزر سکے۔

اگر دیکھنے والے اور دیکھی جانے والی چیز کے درمیان یہ فضا ختم ہوجائے تو رؤیت درست نہیں رہتی۔

جسمانی رؤیت کو اللہ کے لیے ماننے سے دیکھنے والے اور دیکھی جانے والی ذات کے درمیان مشابہت لازم آئے گی۔

کیونکہ جب دیکھنے والا اور دیکھی جانے والی چیز رؤیت کے سبب اور شرائط میں ایک جیسے ہوں تو ان دونوں کے درمیان مشابہت لازم آتی ہے، اور یہی تشبیہ ہے۔

اس لیے کہ اسباب کا اپنے نتائج کے ساتھ تعلق ہونا ضروری ہے۔“

حوالہ:

الکافی، کتاب التوحید، باب ابطال الرؤیۃ، حدیث 4؛

کتاب التوحید، باب 8، حدیث 7۔

مختصر وضاحت:

جسمانی طور پر دیکھنے کے لیے سمت، فاصلہ، روشنی اور ایک واسطہ یا فضا ضروری ہوتی ہے۔

اللہ کوئی جسم نہیں جو ان مخلوقاتی شرائط کے اندر محدود ہو۔

اللہ کے لیے جسمانی رؤیت ماننا، اللہ کو مخلوق کے مشابہ قرار دینا ہے۔

شیعہ روایت 7

عربی:

أبي رحمه الله، قال: حدثنا محمد بن يحيى العطار، عن أحمد بن محمد بن عيسى، عن ابن أبي نجران، عن عبد الله بن سنان، عن أبي عبد الله عليه السلام في قوله عز وجل: لا تدركه الأبصار وهو يدرك الأبصار، قال: إحاطة الوهم، ألا ترى إلى قوله: قد جاءكم بصائر من ربكم، ليس بمعنى بصر العيون، فمن أبصر فلنفسه، ليس يعني من البصر بعينه، ومن عمي فعليها، لم يعن عمي العيون، إنما عنى إحاطة الوهم كما يقال: فلان بصير بالشعر، وفلان بصير بالفقه، وفلان بصير بالدراهم وفلان بصير بالثياب، الله أعظم من أن يرى بالعين.

اردو ترجمہ:

امام جعفر صادق علیہ السلام نے اللہ عزوجل کے اس فرمان کی وضاحت فرمائی:

”نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں، جبکہ وہ تمام نگاہوں کا ادراک رکھتا ہے۔“

امام علیہ السلام نے فرمایا:

”اس سے مراد وہم اور تصور کا کسی چیز کا مکمل احاطہ کرنا ہے۔

کیا تم اللہ کے اس فرمان کو نہیں دیکھتے:

’تمہارے رب کی جانب سے تمہارے پاس بصیرتیں آچکی ہیں۔‘

یہاں بصیرت سے مراد ظاہری آنکھوں کی بینائی نہیں ہے۔

اسی طرح:

’جو بصیرت اختیار کرے گا، وہ اپنے ہی فائدے کے لیے کرے گا‘

اس کا مطلب جسمانی آنکھ سے دیکھنا نہیں۔

اور:

’جو اندھا رہے گا، اس کا نقصان اسی کو ہوگا‘

اس سے ظاہری آنکھوں کا اندھا ہونا مراد نہیں۔

بلکہ اس سے مراد ذہنی اور قلبی ادراک ہے۔

جیسے کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص شاعری کا بصیرت رکھنے والا ماہر ہے، فلاں فقہ میں بصیرت رکھتا ہے، فلاں درہموں کو پہچاننے میں ماہر ہے اور فلاں کپڑوں کی پہچان رکھتا ہے۔

اللہ اس بات سے کہیں عظیم تر ہے کہ اسے آنکھ سے دیکھا جاسکے۔“

حوالہ:

شیخ صدوق، کتاب التوحید، کتاب 2، باب 8، حدیث 10؛

الکافی، باب ابطال الرؤیۃ، حدیث 9۔

مختصر وضاحت:

امام جعفر صادق علیہ السلام نے واضح فرمایا کہ قرآن میں ”دیکھنا“ کبھی بصیرت، فہم اور پہچان کے معنی میں بھی آتا ہے۔ ہر جگہ اس سے جسمانی آنکھ سے دیکھنا مراد نہیں ہوتا۔

اللہ ظاہری آنکھوں سے دیکھے جانے سے بہت بلند و برتر ہے۔

شیعہ روایت 8

عربی:

حدثنا محمد بن الحسن بن أحمد بن الوليد رضي الله عنه قال: حدثنا محمد بن الحسن الصفار، قال: حدثنا أحمد بن محمد، عن أبي هاشم الجعفري، عن أبي الحسن الرضا عليه السلام قال: سألته عن الله عز وجل هل يوصف؟ فقال: أما تقرأ القرآن؟ قلت: بلى. قال: أما تقرأ قوله عز وجل: لا تدركه الأبصار وهو يدرك الأبصار؟ قلت: بلى. قال: فتعرفون الأبصار؟ قلت: بلى. قال: وما هي؟ قلت: أبصار العيون. فقال: إن أوهام القلوب أكثر من أبصار العيون، فهو لا تدركه الأوهام وهو يدرك الأوهام.

اردو ترجمہ:

ابو ہاشم جعفری بیان کرتے ہیں:

میں نے امام علی رضا علیہ السلام سے پوچھا:

”کیا اللہ عزوجل کو کسی صفت اور کیفیت کے ساتھ بیان کیا جاسکتا ہے؟“

امام علیہ السلام نے فرمایا:

”کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟“

میں نے عرض کیا:

”جی ہاں۔“

آپ نے فرمایا:

”کیا تم اللہ عزوجل کا یہ فرمان نہیں پڑھتے:

’نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں، جبکہ وہ تمام نگاہوں کا ادراک رکھتا ہے؟‘“

میں نے عرض کیا:

”جی ہاں۔“

امام نے پوچھا:

”کیا تم جانتے ہو کہ یہاں ابصار سے کیا مراد ہے؟“

میں نے عرض کیا:

”جی ہاں، آنکھوں کی بینائی۔“

امام علیہ السلام نے فرمایا:

”دلوں کے تصورات اور خیالات کی رسائی ظاہری آنکھوں کی بینائی سے زیادہ وسیع ہوتی ہے۔

اس کے باوجود دلوں کے تصورات بھی اس کا ادراک نہیں کرسکتے، جبکہ وہ تمام تصورات اور خیالات کا ادراک رکھتا ہے۔“

حوالہ:

شیخ صدوق، کتاب التوحید، کتاب 2، باب 8، حدیث 11؛

الکافی، باب ابطال الرؤیۃ، حدیث 10۔

مختصر وضاحت:

جب انسانی تصور اور خیال بھی اللہ کا احاطہ نہیں کرسکتا تو جسمانی آنکھ اللہ کا ادراک کیسے کرسکتی ہے؟

شیعہ روایت 9

عربی:

حدثنا علي بن أحمد بن محمد بن عمران الدقاق رحمه الله قال: حدثنا محمد بن أبي عبد الله الكوفي، عمن ذكره، عن محمد بن عيسى، عن داود بن القاسم، عن أبي هاشم الجعفري، قال: قلت لأبي جعفر ابن الرضا عليهما السلام: لا تدركه الأبصار وهو يدرك الأبصار؟ فقال: يا أبا هاشم أوهام القلوب أدق من أبصار العيون، أنت قد تدرك بوهمك السند والهند والبلدان التي لم تدخلها ولا تدركها ببصرك، فأوهام القلوب لا تدركه فكيف أبصار العيون.

اردو ترجمہ:

ابو ہاشم جعفری بیان کرتے ہیں:

میں نے امام ابو جعفر، امام محمد تقی الجواد علیہ السلام سے اس آیت کے متعلق سوال کیا:

”نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں، جبکہ وہ تمام نگاہوں کا ادراک رکھتا ہے۔“

امام علیہ السلام نے فرمایا:

”اے ابو ہاشم! دلوں کے تصورات، ظاہری آنکھوں کی بینائی سے زیادہ باریک اور وسیع ہوتے ہیں۔

تم اپنے تصور میں سندھ، ہندوستان اور ان ممالک کو لاسکتے ہو جن میں تم کبھی داخل نہیں ہوئے اور جنہیں تمہاری آنکھوں نے نہیں دیکھا۔

لیکن دلوں کے تصورات بھی اللہ کا ادراک نہیں کرسکتے، تو پھر ظاہری آنکھیں اس کا ادراک کیسے کرسکتی ہیں؟“

حوالہ:

شیخ صدوق، کتاب التوحید، کتاب 2، باب 8، حدیث 12؛

الکافی، باب ابطال الرؤیۃ، حدیث 11۔

مختصر وضاحت:

انسان کا ذہن ان علاقوں کا تصور کرسکتا ہے جنہیں اس کی آنکھوں نے کبھی نہیں دیکھا، لیکن یہی ذہن اللہ کی ذات کا احاطہ نہیں کرسکتا۔

پس نسبتاً کمزور جسمانی آنکھ اللہ کا ادراک کیسے کرسکتی ہے؟

شیعہ روایت 10

عربی:

حدثنا محمد بن محمد بن عصام الكليني رضي الله عنه، قال: حدثنا محمد بن يعقوب الكليني، عن علي بن محمد، عن سهل بن زياد وغيره، عن محمد بن سليمان، عن علي بن إبراهيم الجعفري، عن عبد الله بن سنان، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: إن الله عظيم، رفيع، لا يقدر العباد على صفته، ولا يبلغون كنه عظمته، ولا تدركه الأبصار وهو يدرك الأبصار وهو اللطيف الخبير، ولا يوصف بكيف ولا أين ولا حيث، فكيف أصفه بكيف وهو الذي كيف الكيف حتى صار كيفا، فعرفت الكيف بما كيف لنا من الكيف؟ أم كيف أصفه بأين وهو الذي أين الأين حتى صار أينا، فعرفت الأين بما أين لنا من الأين؟ أم كيف أصفه بحيث وهو الذي حيث الحيث حتى صار حيثا، فعرفت الحيث بما حيث لنا من الحيث؟ فالله تبارك وتعالى داخل في كل مكان، وخارج من كل شيء، لا تدركه الأبصار، وهو يدرك الأبصار، لا إله إلا هو العلي العظيم، وهو اللطيف الخبير.

اردو ترجمہ:

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

”بے شک اللہ عظیم اور بلند مرتبہ ہے۔

بندے اس کی حقیقی صفت بیان کرنے کی قدرت نہیں رکھتے اور نہ اس کی عظمت کی حقیقت تک پہنچ سکتے ہیں۔

نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں، جبکہ وہ تمام نگاہوں کا ادراک رکھتا ہے۔ وہ نہایت باریک بین اور ہر چیز سے باخبر ہے۔

اللہ کو ’کیسے‘، ’کہاں‘ اور ’کس جگہ یا سمت‘ جیسے الفاظ کے ذریعے بیان نہیں کیا جاسکتا۔

میں اللہ کو ’کیسے‘ کے ذریعے کس طرح بیان کرسکتا ہوں، جبکہ اسی نے ’کیسے‘ اور کیفیت کو پیدا کیا، یہاں تک کہ کیفیت وجود میں آئی؟

میں کیفیت کو صرف ان کیفیتوں کے ذریعے پہچانتا ہوں جو اللہ نے ہمارے لیے پیدا کی ہیں۔

میں اللہ کو ’کہاں‘ کے ذریعے کس طرح بیان کرسکتا ہوں، جبکہ اسی نے ’کہاں‘ اور مکان کو پیدا کیا، یہاں تک کہ مکان وجود میں آیا؟

میں مکان کو صرف ان جگہوں کے ذریعے پہچانتا ہوں جو اللہ نے ہمارے لیے پیدا کی ہیں۔

اور میں اللہ کو ’کس جگہ یا سمت‘ کے ذریعے کیسے بیان کرسکتا ہوں، جبکہ اسی نے جگہ اور سمت کا مفہوم پیدا کیا؟

پس اللہ تبارک و تعالیٰ ہر جگہ پر اپنے علم اور قدرت کے ساتھ محیط ہے، لیکن کسی چیز، جگہ یا حد میں محدود نہیں۔ وہ ہر مخلوق کی حدود سے ماورا ہے۔

نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں، جبکہ وہ تمام نگاہوں کا ادراک رکھتا ہے۔

اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ بلند مرتبہ، عظیم، نہایت باریک بین اور ہر چیز سے باخبر ہے۔“

حوالہ:

شیخ صدوق، کتاب التوحید، کتاب 2، باب 8، حدیث 14۔

مختصر وضاحت:

اللہ کو کیفیت، جگہ، سمت اور فاصلے کے ساتھ بیان نہیں کیا جاسکتا۔

جسمانی رؤیت کے لیے یہ تمام مخلوقاتی حدود ضروری ہوتی ہیں، اس لیے جسمانی رؤیت اللہ پر منطبق نہیں ہوسکتی۔

شیعہ روایت 11

عربی:

حدثنا علي بن أحمد بن محمد بن عمران الدقاق رضي الله عنه، قال: حدثنا محمد بن أبي عبد الله الكوفي، عن محمد بن إسماعيل البرمكي، عن الحسين بن الحسن، عن بكر بن صالح، عن الحسين بن سعيد، عن إبراهيم بن محمد الخزاز، ومحمد بن الحسين، قالا: دخلنا على أبي الحسن الرضا عليه السلام فحكينا له ما روي أن محمدا صلى الله عليه وآله رأى ربه في هيئة الشاب الموفق في سن أبناء ثلاثين سنة رجلاه في خضرة، وقلت: إن هشام بن سالم وصاحب الطاق والميثمي يقولون: إنه أجوف إلى السرة والباقي صمد. فخر ساجدا، ثم قال: سبحانك ما عرفوك ولا وحدوك فمن أجل ذلك وصفوك. سبحانك لو عرفوك لوصفوك بما وصفت به نفسك. سبحانك كيف طاوعتهم أنفسهم أن شبهوك بغيرك؟ إلهي لا أصفك إلا بما وصفت به نفسك، ولا أشبهك بخلقك، أنت أهل لكل خير فلا تجعلني من القوم الظالمين. ثم التفت إلينا، فقال: ما توهمتم من شيء فتوهموا الله غيره. ثم قال: نحن آل محمد النمط الأوسط الذي لا يدركنا الغالي ولا يسبقنا التالي. يا محمد، إن رسول الله صلى الله عليه وآله حين نظر إلى عظمة ربه كان في هيئة الشاب الموفق وسن أبناء ثلاثين سنة. يا محمد، عظم ربي وجل أن يكون في صفة المخلوقين. قال: قلت: جعلت فداك من كانت رجلاه في خضرة؟ قال: ذاك محمد صلى الله عليه وآله، كان إذا نظر إلى ربه بقلبه جعله في نور مثل نور الحجب حتى يستبين له ما في الحجب، إن نور الله منه أخضر ما اخضر، ومنه أحمر ما احمر، ومنه أبيض ما ابيض، ومنه غير ذلك. يا محمد، ما شهد به الكتاب والسنة فنحن القائلون به.

اردو ترجمہ:

ابراہیم بن محمد خزّاز اور محمد بن حسین بیان کرتے ہیں:

ہم امام علی رضا علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس روایت کا ذکر کیا جس میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ نے اپنے رب کو تقریباً تیس سالہ خوب صورت نوجوان کی شکل میں دیکھا، جس کے پاؤں سبز رنگ یا سبز نور میں تھے۔

میں نے یہ بھی عرض کیا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اللہ ناف تک کھوکھلا اور اس کے بعد ٹھوس ہے۔

یہ سنتے ہی امام علی رضا علیہ السلام سجدے میں گرگئے اور فرمایا:

”اے اللہ! تو پاک ہے!

انہوں نے تجھے پہچانا ہی نہیں اور نہ تیری حقیقی وحدانیت کو تسلیم کیا۔ اسی لیے انہوں نے تجھے اس طرح بیان کیا۔

تو پاک ہے!

اگر انہوں نے تجھے پہچانا ہوتا تو وہ تجھے صرف انہی صفات کے ساتھ بیان کرتے جن کے ساتھ تو نے خود کو بیان کیا ہے۔

تو پاک ہے!

ان کے نفسوں نے انہیں کس طرح اجازت دے دی کہ وہ تجھے تیرے غیر سے مشابہ قرار دیں؟

اے میرے معبود! میں تجھے صرف انہی صفات کے ساتھ بیان کرتا ہوں جن کے ساتھ تو نے خود کو بیان کیا ہے۔

میں تجھے تیری مخلوق کے مشابہ قرار نہیں دیتا۔

تو ہر خیر کا مستحق ہے، پس مجھے ظالموں میں شامل نہ کرنا۔“

پھر امام علیہ السلام ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:

”تم اپنے ذہن میں جس چیز کا بھی تصور کرو، اللہ کو اس تصور سے مختلف اور برتر سمجھو۔“

پھر فرمایا:

”ہم آلِ محمد اعتدال اور درمیانی راستے پر قائم ہیں۔ غلو کرنے والا ہماری حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا اور پیچھے رہ جانے والا ہم پر سبقت نہیں لے سکتا۔

اے محمد! جس وقت رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کی عظمت کی طرف قلبی توجہ فرمائی، اس وقت خود رسول اللہ ﷺ تقریباً تیس سالہ کامل نوجوان کی صورت میں تھے۔

اے محمد! میرا رب اس بات سے بہت عظیم اور بلند ہے کہ وہ مخلوق کی صفات رکھتا ہو۔“

میں نے عرض کیا:

”آپ پر قربان جاؤں، سبز نور میں پاؤں کس کے تھے؟“

امام علیہ السلام نے فرمایا:

”وہ حضرت محمد ﷺ تھے۔

جب آپ ﷺ اپنے دل کے ذریعے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوئے تو اللہ نے آپ کو حجابوں کے نور جیسے نور میں قرار دیا، یہاں تک کہ حجابوں کے اندر موجود نشانیاں آپ پر واضح ہوگئیں۔

اللہ کے پیدا کردہ نور میں سبز، سرخ، سفید اور دوسرے رنگ بھی ہوتے ہیں۔

اے محمد! ہم اسی بات کے قائل ہیں جس کی کتابِ خدا اور سنت گواہی دیتی ہے۔“

حوالہ:

شیخ صدوق، کتاب التوحید، کتاب 2، باب 8، حدیث 13۔

مختصر وضاحت:

یہ روایت ان تمام دعووں کو تباہ کردیتی ہے جن میں اللہ کو انسانی شکل، نوجوان کی صورت، جسم، حجم یا کسی سمت میں تصور کیا جاتا ہے۔

امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا:

تم جس چیز کا تصور بھی کرو، اللہ اس سے مختلف اور برتر ہے۔

اب معراج کے بارے میں کیا عقیدہ ہونا چاہیے؟

بعض لوگ واقعۂ معراج کو بنیاد بنا کر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ کو جسمانی آنکھوں سے دیکھا تھا۔

لیکن قرآن فرماتا ہے:

قرآن 53:18

لَقَدْ رَأَىٰ مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَىٰ

ترجمہ:

”یقیناً انہوں نے اپنے رب کی عظیم نشانیوں میں سے کچھ نشانیاں دیکھیں۔“

اس آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کی عظیم نشانیاں دیکھیں۔

یہ نہیں فرمایا گیا کہ آپ ﷺ نے اپنے رب کی ذات یا حقیقت کو جسمانی آنکھوں سے دیکھا۔

معراج کی مزید وضاحت سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ امام علی علیہ السلام نے ”اللہ کو دیکھنے“ کا مفہوم کس طرح بیان فرمایا۔

شیعہ روایت 12

عربی:

عدة من أصحابنا عن أحمد بن محمد بن خالد، عن أحمد بن محمد بن أبي نصر، عن أبي الحسن الموصلي، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: جاء حبر إلى أمير المؤمنين صلوات الله عليه فقال: يا أمير المؤمنين هل رأيت ربك حين عبدته؟ قال: فقال: ويلك، ما كنت أعبد ربا لم أره. قال: وكيف رأيته؟ قال: ويلك، لا تدركه العيون في مشاهدة الأبصار، ولكن رأته القلوب بحقائق الإيمان.

اردو ترجمہ:

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

ایک یہودی عالم امیر المؤمنین امام علی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے پوچھا:

”اے امیر المؤمنین! جب آپ نے اپنے رب کی عبادت کی تو کیا آپ نے اسے دیکھا تھا؟“

امام علی علیہ السلام نے فرمایا:

”تجھ پر افسوس! میں ایسے رب کی عبادت نہیں کرتا جسے میں نے دیکھا نہ ہو۔“

اس نے پوچھا:

”آپ نے اسے کس طرح دیکھا؟“

امام علی علیہ السلام نے فرمایا:

”تجھ پر افسوس! ظاہری آنکھیں اسے جسمانی مشاہدے کے ذریعے نہیں دیکھ سکتیں، بلکہ دل اسے ایمان کی حقیقتوں کے ذریعے دیکھتے ہیں۔“

حوالہ:

الکافی، کتاب التوحید، باب ابطال الرؤیۃ، حدیث 6؛

شیخ صدوق، کتاب التوحید، کتاب 2، باب 8، حدیث 6؛

نہج البلاغہ، خطبہ 179 میں بھی یہی مفہوم بیان ہوا ہے۔

مختصر وضاحت:

امام علی علیہ السلام کا مطلب ظاہری اور جسمانی رؤیت نہیں تھا۔

آپ کی مراد یقین، ایمان اور دل کی معرفت تھی۔

اللہ کو ”دیکھنے“ والی تمام روایات کو سمجھنے کی یہی بنیادی کنجی ہے۔

اس سے مراد جسمانی آنکھوں سے دیکھنا نہیں۔

اس سے مراد یقین ہے۔

اس سے مراد معرفت ہے۔

اس سے مراد ایمان ہے۔

اس سے مراد دل کا ایمان کی حقیقتوں کے ذریعے اللہ کو پہچاننا ہے۔

شیعہ روایت 13

عربی:

أبي رحمه الله قال: حدثنا محمد بن يحيى العطار، عن أحمد بن محمد بن عيسى، قال: حدثنا ابن أبي نصر، عن أبي الحسن الرضا عليه السلام قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: لما أسري بي إلى السماء بلغ بي جبرئيل مكانا لم يطأه جبرئيل قط، فكشف لي فأراني الله عز وجل من نور عظمته ما أحب.

اردو ترجمہ:

امام علی رضا علیہ السلام نے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

”جب مجھے شبِ معراج آسمانوں کی طرف لے جایا گیا تو جبرائیل مجھے ایک ایسے مقام تک لے گئے جہاں اس سے پہلے خود جبرائیل نے بھی قدم نہیں رکھا تھا۔

پھر میرے لیے پردہ ہٹایا گیا اور اللہ عزوجل نے مجھے اپنی عظمت کے نور میں سے جتنا چاہا، دکھایا۔“

حوالہ:

شیخ صدوق، کتاب التوحید، کتاب 2، باب 8، حدیث 4؛

الکافی، باب ابطال الرؤیۃ، حدیث 8۔

مختصر وضاحت:

رسول اللہ ﷺ کو اللہ کی عظمت کے نور میں سے دکھایا گیا تھا۔

اللہ کو کسی جسم، شکل، سمت یا جسمانی چیز کی صورت میں نہیں دیکھا گیا تھا۔

شیعہ روایت 14

عربی:

حدثنا محمد بن الحسن بن أحمد بن الوليد رضي الله عنه، قال: حدثنا إبراهيم بن هاشم، عن ابن أبي عمير، عن مرازم، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: سمعته يقول: رأى رسول الله صلى الله عليه وآله ربه عز وجل يعني بقلبه.

اردو ترجمہ:

مرازم بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام کو فرماتے ہوئے سنا:

”رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا، یعنی اپنے دل کے ذریعے۔“

حوالہ:

شیخ صدوق، کتاب التوحید، کتاب 2، باب 8، حدیث 16۔

مختصر وضاحت:

یہ روایت واقعۂ معراج کی درست وضاحت کرتی ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے اللہ کو جسمانی آنکھوں سے نہیں دیکھا، بلکہ اپنے قلب کے ذریعے دیکھا؛ یعنی آپ کو یقین اور معرفتِ الٰہی کا بلند ترین مرتبہ عطا کیا گیا۔

شیعہ روایت 15

عربی:

حدثنا محمد بن الحسن بن أحمد بن الوليد رحمه الله قال: حدثنا محمد بن الحسن الصفار، عن محمد بن الحسين بن أبي الخطاب، عن محمد بن الفضيل قال: سألت أبا الحسن عليه السلام: هل رأى رسول الله صلى الله عليه وآله ربه عز وجل؟ فقال: نعم بقلبه رآه، أما سمعت الله عز وجل يقول: ما كذب الفؤاد ما رأى، أي لم يره بالبصر، لكن رآه بالفؤاد.

اردو ترجمہ:

محمد بن فضیل بیان کرتے ہیں:

میں نے امام ابو الحسن علیہ السلام سے پوچھا:

”کیا رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا تھا؟“

امام علیہ السلام نے فرمایا:

”ہاں، آپ ﷺ نے اسے اپنے دل کے ذریعے دیکھا تھا۔

کیا تم نے اللہ عزوجل کا یہ فرمان نہیں سنا:

’دل نے اس چیز کو جھٹلایا نہیں جو اس نے دیکھی۔‘

یعنی رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو جسمانی نگاہ سے نہیں دیکھا تھا، بلکہ اپنے قلب کے ذریعے دیکھا تھا۔“

حوالہ:

شیخ صدوق، کتاب التوحید، کتاب 2، باب 8، حدیث 17۔

مختصر وضاحت:

امام علیہ السلام نے دوبارہ نہایت واضح الفاظ میں فرمایا:

یہ جسمانی آنکھ کا مشاہدہ نہیں بلکہ دل کی معرفت تھی۔

شیعہ روایت 16

عربی:

أحمد بن إدريس عن محمد بن عبد الجبار عن صفوان بن يحيى قال: سألني أبو قرة المحدث أن أدخله على أبي الحسن الرضا عليه السلام، فاستأذنته في ذلك فأذن لي، فدخل عليه فسأله عن الحلال والحرام والأحكام حتى بلغ سؤاله إلى التوحيد، فقال أبو قرة: إنا روينا أن الله قسم الرؤية والكلام بين نبيين، فقسم الكلام لموسى ولمحمد الرؤية. فقال أبو الحسن عليه السلام: فمن المبلغ عن الله إلى الثقلين من الجن والإنس: لا تدركه الأبصار، ولا يحيطون به علما، وليس كمثله شيء؟ أليس محمد؟ قال: بلى. قال: كيف يجيء رجل إلى الخلق جميعا فيخبرهم أنه جاء من عند الله وأنه يدعوهم إلى الله بأمر الله فيقول: لا تدركه الأبصار، ولا يحيطون به علما، وليس كمثله شيء، ثم يقول: أنا رأيته بعيني، وأحطت به علما، وهو على صورة البشر؟ أما تستحون؟ ما قدرت الزنادقة أن ترميه بهذا أن يكون يأتي من عند الله بشيء ثم يأتي بخلافه من وجه آخر. قال أبو قرة: فإنه يقول: ولقد رآه نزلة أخرى. فقال أبو الحسن عليه السلام: إن بعد هذه الآية ما يدل على ما رأى، حيث قال: ما كذب الفؤاد ما رأى، يقول: ما كذب فؤاد محمد ما رأت عيناه، ثم أخبر بما رأى فقال: لقد رأى من آيات ربه الكبرى، فآيات الله غير الله، وقد قال الله: ولا يحيطون به علما، فإذا رأته الأبصار فقد أحاطت به العلم ووقعت المعرفة. فقال أبو قرة: فتكذب بالروايات؟ فقال أبو الحسن عليه السلام: إذا كانت الروايات مخالفة للقرآن كذبتها، وما أجمع المسلمون عليه أنه لا يحاط به علما، ولا تدركه الأبصار، وليس كمثله شيء.

اردو ترجمہ:

صفوان بن یحییٰ بیان کرتے ہیں:

محدث ابو قرہ نے مجھ سے درخواست کی کہ میں اسے امام علی رضا علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت دلواؤں۔

میں نے امام سے اجازت طلب کی، آپ نے اجازت دے دی اور وہ امام کی خدمت میں حاضر ہوا۔

اس نے امام سے حلال، حرام اور شرعی احکام کے متعلق سوالات کیے، یہاں تک کہ اس کے سوالات توحید کے موضوع تک پہنچ گئے۔

ابو قرہ نے کہا:

”ہم نے یہ روایت کی ہے کہ اللہ نے کلام اور رؤیت کو دو نبیوں کے درمیان تقسیم کیا۔ کلام حضرت موسیٰ کو دیا اور اللہ کو دیکھنا حضرت محمد ﷺ کو دیا۔“

امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا:

”جن و انس، یعنی دونوں عظیم مخلوقات تک اللہ کی طرف سے یہ پیغام کس نے پہنچایا:

’نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں‘

’وہ اپنے علم کے ذریعے اس کا احاطہ نہیں کرسکتے‘

اور:

’کوئی چیز اس کی مثل نہیں‘؟

کیا یہ پیغام حضرت محمد ﷺ نے نہیں پہنچایا تھا؟“

ابو قرہ نے کہا:

”جی ہاں۔“

امام علیہ السلام نے فرمایا:

”یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک شخص تمام مخلوق کے پاس آئے، انہیں بتائے کہ وہ اللہ کی طرف سے آیا ہے، اللہ کے حکم سے لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دیتا ہے، اور کہے:

’نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں‘

’لوگ علم کے ذریعے اس کا احاطہ نہیں کرسکتے‘

اور:

’کوئی چیز اس کی مثل نہیں‘

پھر وہی شخص یہ بھی کہے:

’میں نے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھا، اپنے علم کے ذریعے اس کا احاطہ کیا اور وہ انسانی شکل میں تھا‘؟

کیا تمہیں شرم نہیں آتی؟

ملحد اور بے دین لوگ بھی رسول اللہ ﷺ پر ایسا الزام نہ لگاسکے کہ آپ اللہ کی طرف سے ایک بات لائیں اور پھر دوسری طرف سے اسی کے خلاف بات پیش کردیں۔“

ابو قرہ نے کہا:

”لیکن اللہ فرماتا ہے:

’اور یقیناً انہوں نے اسے ایک مرتبہ پھر دیکھا۔‘“

امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا:

”اس آیت کے بعد والی آیات خود واضح کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کیا دیکھا تھا۔

اللہ فرماتا ہے:

’دل نے اس چیز کو جھٹلایا نہیں جو اس نے دیکھی۔‘

یعنی حضرت محمد ﷺ کے دل نے اس چیز کو جھٹلایا نہیں جسے آپ کی آنکھوں نے دیکھا۔

پھر اللہ نے خود بتادیا کہ رسول اللہ ﷺ نے کیا دیکھا تھا، چنانچہ فرمایا:

’یقیناً انہوں نے اپنے رب کی عظیم نشانیوں میں سے کچھ نشانیاں دیکھیں۔‘

پس اللہ کی نشانیاں، خود اللہ کی ذات نہیں ہیں۔

اللہ نے یہ بھی فرمایا:

’لوگ اپنے علم کے ذریعے اس کا احاطہ نہیں کرسکتے۔‘

اگر آنکھیں اللہ کو دیکھ لیتیں تو اس کا علمی احاطہ بھی ہوجاتا اور براہِ راست معرفت حاصل ہوجاتی۔“

ابو قرہ نے پوچھا:

”تو کیا آپ ان روایات کو جھٹلاتے ہیں؟“

امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا:

”جب روایات قرآن کے خلاف ہوں تو میں انہیں رد کرتا ہوں۔

مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اللہ کا علم کے ذریعے احاطہ نہیں کیا جاسکتا، نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور کوئی چیز اس کی مثل نہیں۔“

حوالہ:

الکافی، کتاب التوحید، باب ابطال الرؤیۃ، حدیث 2؛

شیخ صدوق، کتاب التوحید، کتاب 2، باب 8، حدیث 9۔

مختصر وضاحت:

یہ شیعہ عقیدۂ توحید کی مضبوط ترین روایات میں سے ایک ہے۔

امام علی رضا علیہ السلام نے قرآن کی آیات 6:103، 20:110، 42:11، 53:11 اور 53:18 کو یکجا کرکے استدلال فرمایا۔

آپ کا نتیجہ بالکل واضح ہے:

رسول اللہ ﷺ نے اللہ کی عظیم نشانیاں دیکھیں، اللہ کی ذات کو جسمانی آنکھوں سے نہیں دیکھا۔

اور جو روایت قرآن کے خلاف ہو، اسے رد کردیا جائے گا۔

شیعہ روایت 17

عربی:

أبي رحمه الله، قال: حدثنا سعد بن عبد الله، عن القاسم بن محمد الإصفهاني، عن سليمان بن داود المنقري، عن حفص بن غياث أو غيره، قال: سألت أبا عبد الله عليه السلام عن قول الله عز وجل: لقد رأى من آيات ربه الكبرى، قال: رأى جبرئيل، على ساقه الدر مثل القطر على البقل، له ستمائة جناح قد ملأ ما بين السماء إلى الأرض.

اردو ترجمہ:

حفص بن غیاث یا کسی دوسرے راوی نے بیان کیا:

میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے اللہ کے اس فرمان کے متعلق سوال کیا:

”یقیناً انہوں نے اپنے رب کی عظیم نشانیوں میں سے کچھ نشانیاں دیکھیں۔“

امام علیہ السلام نے فرمایا:

”رسول اللہ ﷺ نے جبرائیل کو دیکھا۔

ان کی ٹانگوں پر ایسے موتی تھے جیسے پودوں پر شبنم کے قطرے ہوتے ہیں۔

ان کے چھ سو پر تھے اور انہوں نے آسمان و زمین کے درمیان کی فضا کو بھر دیا تھا۔“

حوالہ:

شیخ صدوق، کتاب التوحید، کتاب 2، باب 8، حدیث 18۔

مختصر وضاحت:

یہاں بھی آیت اللہ کی عظیم نشانیوں کو دیکھنے کے متعلق ہے، اللہ کی ذات کو جسمانی آنکھوں سے دیکھنے کے متعلق نہیں۔

قیامت کے دن کے متعلق کیا عقیدہ ہے؟

بعض لوگ اس آیت سے جسمانی رؤیتِ الٰہی پر استدلال کرتے ہیں:

وجوه يومئذ ناضرة إلى ربها ناظرة

ترجمہ:

”اس دن کچھ چہرے تروتازہ ہوں گے، اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔“

لیکن اہلِ بیت علیہم السلام نے واضح فرمایا کہ اس آیت کا مطلب اللہ کو جسمانی آنکھوں سے دیکھنا نہیں ہے۔

شیعہ روایت 18

عربی:

حدثنا علي بن أحمد بن محمد بن عمران الدقاق رحمه الله قال: حدثنا محمد بن هارون الصوفي، قال: حدثنا عبيد الله بن موسى الروياني، قال: حدثنا عبد العظيم بن عبد الله بن علي بن الحسن بن زيد بن الحسن بن علي بن أبي طالب عليهما السلام، عن إبراهيم بن أبي محمود، قال: قال علي بن موسى الرضا عليهما السلام في قول الله عز وجل: وجوه يومئذ ناضرة إلى ربها ناظرة، يعني مشرقة تنتظر ثواب ربها.

اردو ترجمہ:

ابراہیم بن ابی محمود نے روایت کی کہ امام علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام نے اللہ عزوجل کے اس فرمان کی وضاحت فرمائی:

”اس دن کچھ چہرے تروتازہ ہوں گے، اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔“

امام علیہ السلام نے فرمایا:

”اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ چہرے روشن اور خوش حال ہوں گے اور اپنے رب کے اجر و ثواب کے منتظر ہوں گے۔“

حوالہ:

شیخ صدوق، کتاب التوحید، کتاب 2، باب 8، حدیث 19۔

مختصر وضاحت:

اس آیت کا مطلب اللہ کو جسمانی آنکھوں سے دیکھنا نہیں، بلکہ اللہ کے اجر و ثواب کا انتظار کرنا ہے۔

اب قرآن کا دوسرا بنیادی اصول دیکھیے:

قرآن 67:12

إِنَّ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُم بِالْغَيْبِ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ

ترجمہ:

”بے شک جو لوگ اپنے رب سے بن دیکھے ڈرتے ہیں، ان کے لیے مغفرت اور بہت بڑا اجر ہے۔“

یہ آیت بہت گہرا مفہوم رکھتی ہے۔

اللہ ان لوگوں کی تعریف فرماتا ہے جو اپنے رب سے ”بالغیب“ یعنی اسے جسمانی آنکھوں سے دیکھے بغیر ڈرتے ہیں۔

پس ایمان کا بلند ترین مرتبہ یہ نہیں کہ اللہ کو ظاہری آنکھوں سے دیکھا جائے۔

بلکہ بلند ترین ایمان یہ ہے کہ انسان اللہ کو جسمانی آنکھوں سے دیکھے بغیر اس پر ایمان رکھے، اس سے ڈرے، اس کی اطاعت کرے اور یقین کے ذریعے اسے پہچانے۔

اہلِ بیت علیہم السلام کی روایات بھی یہی تعلیم دیتی ہیں۔

شیعہ روایت 19

عربی:

حدثنا علي بن أحمد بن محمد بن عمران الدقاق رحمه الله، قال: حدثنا محمد بن أبي عبد الله الكوفي، قال: حدثنا موسى بن عمران النخعي، عن الحسين بن يزيد النوفلي، عن علي بن أبي حمزة، عن أبي بصير، عن أبي عبد الله عليه السلام، قال: قلت له: أخبرني عن الله عز وجل هل يراه المؤمنون يوم القيامة؟ قال: نعم، وقد رأوه قبل يوم القيامة. فقلت: متى؟ قال: حين قال لهم: ألست بربكم قالوا بلى. ثم سكت ساعة، ثم قال: وإن المؤمنين ليرونه في الدنيا قبل يوم القيامة، ألست تراه في وقتك هذا؟ قال أبو بصير: فقلت له: جعلت فداك فأحدث بهذا عنك؟ فقال: لا، فإنك إذا حدثت به فأنكره منكر جاهل بمعنى ما تقوله ثم قدر أن ذلك تشبيه كفر، وليست الرؤية بالقلب كالرؤية بالعين، تعالى الله عما يصفه المشبهون والملحدون.

اردو ترجمہ:

ابو بصیر بیان کرتے ہیں:

میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کیا:

”مجھے اللہ عزوجل کے متعلق بتائیے، کیا مؤمن قیامت کے دن اسے دیکھیں گے؟“

امام علیہ السلام نے فرمایا:

”ہاں، بلکہ وہ قیامت سے پہلے بھی اسے دیکھ چکے ہیں۔“

میں نے پوچھا:

”کب؟“

آپ نے فرمایا:

”جس وقت اللہ نے ان سے فرمایا:

’کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟‘

تو انہوں نے جواب دیا:

’کیوں نہیں، ضرور تو ہمارا رب ہے۔‘“

پھر امام علیہ السلام کچھ دیر خاموش رہے اور فرمایا:

”مؤمن قیامت سے پہلے دنیا میں بھی اسے دیکھتے ہیں۔ کیا تم اس وقت بھی اسے نہیں دیکھ رہے؟“

ابو بصیر کہتے ہیں:

میں نے عرض کیا:

”آپ پر قربان جاؤں، کیا میں یہ روایت آپ کی طرف نسبت کرکے دوسروں کو بیان کرسکتا ہوں؟“

امام علیہ السلام نے فرمایا:

”نہیں۔

کیونکہ جب تم اسے بیان کرو گے تو کوئی ایسا جاہل شخص، جو تمہاری بات کا حقیقی مطلب نہیں سمجھتا، اس کا انکار کردے گا۔

پھر وہ یہ گمان کرے گا کہ اس سے اللہ کو مخلوق کے مشابہ قرار دینا مراد ہے، اور یوں کفر میں مبتلا ہوجائے گا۔

دل کے ذریعے دیکھنا، آنکھ کے ذریعے دیکھنے کی طرح نہیں ہوتا۔

اللہ ان تمام صفات سے بہت بلند ہے جو تشبیہ دینے والے اور ملحد لوگ اس کے لیے بیان کرتے ہیں۔“

حوالہ:

شیخ صدوق، کتاب التوحید، کتاب 2، باب 8، حدیث 20۔

مختصر وضاحت:

یہ روایت بنیادی حقیقت واضح کرتی ہے۔

اگر کسی حدیث میں کہا جائے کہ مؤمن قیامت کے دن اللہ کو ”دیکھیں گے“ تو اس سے مراد جسمانی آنکھوں سے دیکھنا نہیں۔

اس سے مراد قلبی معرفت، یقین، ایمان اور حقیقت کا کامل ادراک ہے۔

شیعہ روایت 20

عربی:

ومعنى الرؤية الواردة في الأخبار العلم، وذلك أن الدنيا دار شكوك وارتياب وخطرات، فإذا كان يوم القيامة كشف للعباد من آيات الله وأموره في ثوابه وعقابه ما يزول به الشكوك ويعلم حقيقة قدرة الله عز وجل، وتصديق ذلك في كتاب الله عز وجل: لقد كنت في غفلة من هذا فكشفنا عنك غطاءك فبصرك اليوم حديد. فمعنى ما روي في الحديث أنه عز وجل يرى أي يعلم علما يقينا، كقوله عز وجل: ألم تر إلى ربك كيف مد الظل، وقوله: ألم تر إلى الذي حاج إبراهيم في ربه، وقوله: ألم تر إلى الذين خرجوا من ديارهم وهم ألوف حذر الموت، وقوله: ألم تر كيف فعل ربك بأصحاب الفيل، وأشباه ذلك من رؤية القلب وليست من رؤية العين.

اردو ترجمہ:

شیخ صدوق فرماتے ہیں:

”روایات میں آنے والی رؤیت کا مطلب علم اور معرفت ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا شک، شبہات، تردد اور مختلف خیالات کی جگہ ہے۔

لیکن جب قیامت کا دن آئے گا تو اللہ اپنے بندوں کے سامنے اپنی نشانیوں، اپنے معاملات، اپنے اجر اور اپنے عذاب سے متعلق ایسی حقیقتیں ظاہر کردے گا جن کے ذریعے تمام شکوک ختم ہوجائیں گے اور اللہ عزوجل کی قدرت کی حقیقت یقینی طور پر معلوم ہوجائے گی۔

اس کی تصدیق اللہ عزوجل کی کتاب میں موجود ہے:

’یقیناً تم اس حقیقت سے غفلت میں تھے، پس ہم نے تمہارے اوپر سے پردہ ہٹادیا، لہٰذا آج تمہاری نگاہ بہت تیز ہے۔‘

پس روایات میں یہ جو کہا گیا ہے کہ اللہ عزوجل کو دیکھا جائے گا، اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کو یقینی علم اور کامل معرفت کے ذریعے پہچانا جائے گا۔

یہ اسی طرح ہے جیسے اللہ فرماتا ہے:

’کیا تم نے اپنے رب کو نہیں دیکھا کہ اس نے سایہ کس طرح پھیلایا؟‘

اور:

’کیا تم نے اس شخص کو نہیں دیکھا جس نے ابراہیم سے ان کے رب کے بارے میں جھگڑا کیا؟‘

اور:

’کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو موت کے خوف سے ہزاروں کی تعداد میں اپنے گھروں سے نکل گئے تھے؟‘

اور:

’کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا سلوک کیا؟‘

اس قسم کی تمام مثالوں میں دل اور علم کے ذریعے دیکھنا مراد ہے، جسمانی آنکھوں کے ذریعے دیکھنا نہیں۔“

حوالہ:

شیخ صدوق، کتاب التوحید، حدیث 22 کے بعد کی وضاحت۔

مختصر وضاحت:

شیخ صدوق نے شیعہ عقیدے کو واضح طور پر بیان کردیا:

رؤیت سے مراد یقینی علم اور قلبی معرفت ہے، جسمانی آنکھوں سے اللہ کو دیکھنا نہیں۔

شیعہ روایت 21

عربی:

حدثنا محمد بن موسى بن المتوكل رحمه الله قال: حدثنا علي بن الحسين السعد آبادي، عن أحمد بن أبي عبد الله البرقي، عن أبيه محمد بن خالد، عن أحمد بن النضر، عن محمد بن مروان، عن محمد بن السائب، عن أبي صالح، عن عبد الله بن عباس أنه سئل عن تفسير قول الله عز وجل: ولما جاء موسى لميقاتنا وكلمه ربه قال رب أرني أنظر إليك قال لن تراني. قال: قال موسى عليه السلام: سبحانك تبت إليك من أن أسألك الرؤية، وأنا أول المؤمنين بأنك لا ترى.

اردو ترجمہ:

عبداللہ بن عباس سے اللہ عزوجل کے اس فرمان کی تفسیر پوچھی گئی:

”اور جب موسیٰ ہمارے مقررہ وقت پر آئے اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا تو انہوں نے عرض کیا: اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیری طرف دیکھوں۔ اللہ نے فرمایا: تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے۔“

ابن عباس نے کہا:

”حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا:

اے اللہ! تو پاک ہے۔

میں تجھ سے ظاہری رؤیت کا سوال کرنے سے توبہ کرتا ہوں، اور میں سب سے پہلے اس بات پر ایمان لانے والوں میں سے ہوں کہ تجھے جسمانی آنکھوں سے نہیں دیکھا جاسکتا۔“

حوالہ:

شیخ صدوق، کتاب التوحید، کتاب 2، باب 8، حدیث 22۔

مختصر وضاحت:

یہ روایت حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعے کی وضاحت کرتی ہے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام جانتے تھے کہ اللہ کو جسمانی آنکھوں سے نہیں دیکھا جاسکتا۔

اس واقعے کا مقصد بھی یہی تعلیم دینا تھا کہ اللہ ظاہری آنکھوں سے دیکھے جانے والا نہیں۔

شیعہ روایت 22

عربی:

ومحمد بن علي بن الحسين مصنف هذا الكتاب رضي الله عنه يقول: إن موسى عليه السلام علم أن الله عز وجل لا يجوز عليه الرؤية. وإنما سأل الله عز وجل أن يريه ينظر إليه لما ألح عليه قومه في ذلك، فسأل ربه من غير أن يستأذنه في ذلك. فقال: رب أرني أنظر إليك. فقال الله عز وجل: لن تراني ولكن انظر إلى الجبل فإن استقر مكانه فسوف تراني. ومعناه أنك لا تراني أبدا لأن الجبل لا يستقر مكانه أبدا.

اردو ترجمہ:

اس کتاب کے مصنف شیخ صدوق محمد بن علی بن حسین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”حضرت موسیٰ علیہ السلام جانتے تھے کہ اللہ عزوجل کے لیے جسمانی رؤیت ممکن نہیں۔

انہوں نے اللہ سے یہ درخواست صرف اس وجہ سے کی تھی کہ ان کی قوم مسلسل اصرار کررہی تھی کہ وہ اللہ کو دیکھنا چاہتی ہے۔

چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس سوال کے لیے پہلے اللہ سے اجازت لیے بغیر عرض کیا:

’اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیری طرف دیکھوں۔‘

اللہ عزوجل نے فرمایا:

’تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے، لیکن اس پہاڑ کی طرف دیکھو۔ اگر وہ اپنی جگہ قائم رہا تو پھر تم مجھے دیکھ سکو گے۔‘

اس کا حقیقی مطلب یہ ہے:

تم مجھے کبھی نہیں دیکھ سکو گے، کیونکہ وہ پہاڑ اپنی جگہ قائم رہنے والا نہیں تھا۔“

حوالہ:

شیخ صدوق، کتاب التوحید، حدیث 22 کے بعد کی وضاحت۔

مختصر وضاحت:

یہ قرآن 7:143 کی وضاحت ہے۔

”تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے“ کا مطلب یہی ہے کہ اللہ کو جسمانی آنکھوں سے نہیں دیکھا جاسکتا۔

حتمی خلاصہ

قرآنِ مجید فرماتا ہے:

لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ

”نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں۔“

قَالَ لَنْ تَرَانِي

”اللہ نے فرمایا: تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے۔“

إِنَّ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُم بِالْغَيْبِ

”بے شک جو لوگ اپنے رب سے بن دیکھے ڈرتے ہیں۔“

اہلِ بیت علیہم السلام نے ان آیات کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:

آنکھیں اللہ کو نہیں دیکھ سکتیں۔

حواس اللہ کا ادراک نہیں کرسکتے۔

انسانی تصور اللہ کا احاطہ نہیں کرسکتا۔

اللہ کوئی جسم نہیں۔

اللہ انسانی شکل و صورت میں نہیں۔

اللہ کسی جگہ میں محدود نہیں۔

اللہ کسی سمت میں محدود نہیں۔

اللہ کو ”کیسے“، ”کہاں“ اور ”کس سمت“ جیسے مخلوقاتی تصورات کے ذریعے بیان نہیں کیا جاسکتا۔

جسمانی رؤیت کے لیے روشنی، فاصلہ، فضا، جسم اور سمت ضروری ہوتے ہیں، جبکہ اللہ ان تمام مخلوقاتی حدود سے بلند و برتر ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے معراج کے موقع پر اللہ کی عظیم نشانیاں اور اس کی عظمت کے نور میں سے دیکھا تھا، اللہ کی ذات کو جسمانی آنکھوں سے نہیں دیکھا تھا۔

جب کسی روایت میں کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا، تو اس کا مطلب قلبی رؤیت ہے، جسمانی آنکھوں سے دیکھنا نہیں۔

جب کہا جاتا ہے کہ مؤمن قیامت کے دن اللہ کو دیکھیں گے تو اس سے مراد یقین، معرفت اور دل کے ذریعے حقیقت کا کامل ادراک ہے، نہ کہ ظاہری آنکھوں سے اللہ کو دیکھنا۔

آیت:

”وہ اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے“

کا مطلب یہ ہے کہ اہلِ ایمان اپنے رب کے اجر و ثواب کے منتظر ہوں گے۔

ہر ایسی روایت جو اللہ کے لیے جسم، شکل، نوجوان کی صورت، انسانی چہرہ، مکان، سمت یا جسمانی طور پر قابلِ دید ہونے کا عقیدہ پیش کرے، قرآن کے خلاف ہے اور اسے رد کرنا ضروری ہے۔

یہی قرآن اور اہلِ بیت علیہم السلام کی خالص توحید ہے۔

اللہ کو آنکھوں سے نہیں دیکھا جاتا۔

اللہ کو ایمان کے ذریعے پہچانا جاتا ہے۔

اللہ سے اس حال میں ڈرا جاتا ہے کہ وہ جسمانی نگاہوں سے پوشیدہ ہے۔

اور یہی حقیقی ایمان کا بلند ترین مرتبہ ہے۔

Primary Category :

Loading comments...

کیا اللہ کو جسمانی آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے؟ | ShiaRef